ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کشن گنج میں بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس؛ سوفیصد شرح خواندگی حاصل کرنے پر زور

کشن گنج میں بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس؛ سوفیصد شرح خواندگی حاصل کرنے پر زور

Mon, 12 Dec 2016 23:58:34    S.O. News Service

کشن گنج، 12 دسمبر (پریس ریلیز/ایس او نیوز)جب سیمانچل کے لوگوں میں سو فیصد شرح خواندگی نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس خطے کی ترقی کا خواب شرمندہ  تعبیر نہیں ہوگا۔ یہ بات بہار محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے وزیر پروفیسر عبدالغفور نے کل یہاں ہیومن چین اور قومی اردو کونسل کے اشترا ک سے منعقدہ بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیمی ادارے کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک معیاری تعلیم نہیں ہوگی اس وقت تک بہترین دماغ اور بہترین افرادکے پیدا ہونے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے محکمہ اقلیتی امورکی وزارت کی طرف سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سیمانچل کے خطے کو حکومت کی اسکیموں میں ترجیح دی جائے گی لیکن اس کے لئے سیمانچل کے لوگوں کو آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیمانچل کے لوگ اسکول کھولیں، انجینئرنگ، میڈیکل اور دیگر کالج کھولیں ان کی ہر طرح سے مدد کی جائے گی۔ 

قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے سیمانچل کے لوگوں کو عزم اور قوت ارادی پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ارادہ نہیں ہوگا اس وقت تک ادارہ بھی قائم نہیں ہوگا۔انہو ں نے سرسید احمد خاں کی مثال سے وضاحت کرتے ہو ئے کہا کہ انہوں نے ایک دن اے ایم یو قائم نہیں کیا تھابلکہ برسوں کے عزم اور مسلسل جہد کے بعد قائم کرسکے تھے۔انہوں سیاست دانوں سے تعلیمی سہولت طلب کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر بہار کے لوگ سماجی اور سیاسی رہنماؤں سے صرف تعلیم کا مطالبہ کریں۔ کیوں کہ سماج میں تبدیلی صرف اسی چیز سے آئے گی۔ انہوں نے صاحب حیثیت لوگوں سے سماج غریب بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی درخواست کی اور کہاکہ اگر یہ سلسلہ شروع ہوگیا تو سماج میں بہت تیزی سے تبدیل آئے گی۔ 

قومی کونسل کے ڈائرکٹر نے علاقے میں کم ہمت افزائی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے جب یہاں کا نوجوان یہاں رہتا ہے تو ناکام رہتا ہے لیکن جیسے دہلی یا دیگر شہروں کا رخ کرتا ہے وہ کامیاب ہوجاہے اور کرائے ایک کمرے میں رہ کر آئی اے ایس بن جاتا ہے۔انہوں نے مدارس اور اسکولوں میں سہولت کے فقدان کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تنخواہ نہیں ملے گی تو اساتذہ معیاری تعلیم کیسے دیں گے۔انہوں نے اس موقع پر سیمانچل خطہ کے لئے ہر پانچ کلو میٹر پر ایک قومی اردو کونسل کا عربی، فارسی، اردو اور کمپیوٹر سنٹرس قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری اور امیر شریعت بہار، اڑیسہ جھارکھنڈ مولانا محمد ولی رحمانی نے اردو زبان کی تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہودی قوم نے ہبرو زبا ن کو 2200برسوں تک اپنے گھروں میں زندہ رکھا لیکن مسلمانو ں نے صرف 70برسوں میں گھرو ں سے نکال دیا۔ انہوں نے ایک مرکز پر جمع ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملت کی شناخت ان کے اداروں سے ہوتی ہے اور مسلمانوں کے پاس ادارے ہی نہیں ہیں۔ 
کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی افادیت اسی وقت ہوگی جب اس پروگرام میں کئے گئے عزم کو پورا کریں۔

ہیومن چن کے صدر انجینئر محمد اسلم علیگ نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی سے گزارش کی کہ وہ رحمانی فاؤنڈیشن سے سیمانچل کے اندر اعلی تعلیمی معیار کے لڑکے لڑکیوں کے لئے دو اسکول قائم کریں۔وزیر اقلیتی فلاح بہود ڈاکٹر عبدالغفور سے صاف پانی،، روزگار کے مواقع اور تعلیم سے متعلق اسکیموں اور منصوبوں سے خصوصی طورپر مستفیض کرانے کامطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ ہیومن چین نے قومی ارد کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم سے این سی پی یو ایل کا برانچ آفس اور کمپیوٹر سنٹر س قائم کرنے کی مانگ کی۔

انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر برگیڈیر سید احمد علی سے مدارس کے طلبہ کے لئے سیمانچل میں برج کورس اور فاصلاتی تعلیم کے مراکز کھولنے کی مانگ کی ۔ جامعہ ہمدرد کے سینئر پروفیسراور وی سی کے نمائندہ پروفیسر اے زیڈ عابدی سے یہ مطالبہ کیا کہ سیمانچل میں ہمدرد کی شاخ قائم کی جاے۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض جنر ل سکریٹری ڈاکٹر خالد مبشر، منت رحمانی اورنائب صدر توقیر عالم جامعی نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔
کٹیہار میڈیکل کالج کے چیرمین ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے کہا کہ سیمانچل کے لوگ اے ایم یو سنٹر سے اس وقت فائدہ اٹھاسکتے ہیں جب یہاں معیاری اسکول ہوں گے۔داخلہ ٹسٹ کے ذریعہ ہوتا ہے اور ٹسٹ وہی کامیاب ہوتے ہیں جو معیاری اسکول کے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بیداری آرہی ہے لیکن تعلیمی بیداری کی ضرورت ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر بریگیڈیر (سبکدوش) سید احمد علی نے بہار کی سنہری تاریخ کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں دنیا کی پہلی یونیورسٹی قائم ہوئی تھی آریہ بھٹ بھی یہیں کے پیداوار تھے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں بہترین دماغ موجود ہے اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مسلم اداروں میں ٹیچنگ فیکلٹی کے غیر معیاری ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک معیاری اساتذہ نہیں ہو. گے اس وقت تک معیار تعلیم بھی اچھا نہیں ہوگا۔ اے ایم یو الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمان نے کہا کہ صرف کانفرنس منعقد کرنے سے کوئی فائد نہیں ہوسکتا جب اسے عملی سطح پر زمین پر نہ اتارا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے بازو میں دم ہے تو آپ کا ہر کام ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کی وسیع پیمانے پرسیاست میں شراکت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سیاست سے دور رہنے کامشور دے رہے ہیں وہ مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

الفلاح یونیورسٹی کے چانسلر نے کہاکہ حکومت آ پ کے حالات نہیں بدل سکتی جب تک آپ اپنے حالات بدلنے کے لئے خود میدان میں نہ آجائیں۔ انہوں نے تعلیم کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم پر سرمایہ کاری کی جائے۔ انہوں نے قو م کی ایک فرد کی ترقی کو پوری قوم کی ترقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام تعلیمی ترقی کی بنیادمعیاری اسکول ہوتے ہیں۔

اس موقع پر انیس قدوائی نے سیمانل خطے میں اخلاق الرحمان قدوائی سائنس و تکنالوجی یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ 

کانفرنس کے اہم مقررین میں ڈاکٹراحمد اشفاق کریم چیرمین کٹیہار میڈیکل کالج، جناب الیاس رحمانی، شیخ مطیع الرحمان مدنی (توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ))، ڈاکٹر راشد نہال (ڈائرکٹر اے ایم یو کشن گنج سنٹر)،مسٹر ارشاد عالم (اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی)،مسٹر تنویر عالم (صدر اے ایم یو الومنائی ایسوسی ایشن مہاراشٹر)پروفیسر سہیل صابری اے ایم یو، ڈاکٹر اظہار عالم جے ڈی یو لیڈر، محمود اشرف، جے یو ڈی لیڈر، ایم ایل اے کوچا دھامن ماسٹر مجاہد عالم اور دیگر مقررین شامل تھے۔


Share: